Naat Hazrat Moalana Abdur Rahman Jami Az Husn e Maleeh Khudاز سن ملح كود مولانا ەبد الرمن ژامح
نعت شریف کلام حضرت مولانا عبدالرحمٰن جامی رحمتہ اللہ علیہ از حسن ملیح خود شورِ بجہان کردی ہر زخمی و بسمل را مصروفِ فغاں کردی ان کے حسنِ ملیح سے سارے جہاں میں ایک شور سا اٹھا ہے اور زخمی و نیم جان ، سب کے سب آہوں میں لگے ہوئے ہیں ۔ بے جرم و خطا قتلم از نازِ بتان کردی خود تیغ زدی بر من، نام دیگراں کردی میں کسی غلطی اور جرم نہ کرنے کے باوجود اس کے ناز سے قتل ہوا ہوں اور یہ کہ اس نے خود مجھ پہ تلوار چلا کے الزام دوسروں پہ دھر دیا ہے۔ مدہوش به یک ساغر ای پیرِ مغاں کردی دل بُردی و جان بُردی بے تاب و تواں کردی اس بلند پایہ نے ایک ہی ساغر کے ذریعے مجھے بے ہوش کر کے رکھ دیا اور پھر یوں ہوا کہ دل بھی گیا، جان بھی گئی اور مسلسل بے تابی میں ڈال گیا۔ شد جامئِ بیچاره از عشق تو آواره آوارۂ غربت را در خاک نہاں کردی یہ بیچارہ جامی اب تیری والہانہ محبت میں جگہ جگہ پھرتا جا رہا ہے اور اس لٹے پھٹے حال میں مٹی مٹی ہو گیا